18 ستمبر، 2026، 3:34 PM

جب تک رہبر انقلاب کی تمام شرائط پوری نہیں ہوتیں، کوئی بھی مذاکرات نہیں ہوں گے، امام جمعہ تہران

جب تک رہبر انقلاب کی تمام شرائط پوری نہیں ہوتیں، کوئی بھی مذاکرات نہیں ہوں گے، امام جمعہ تہران

امام جمعہ تہران نے کہا کہ جب تک رہبرِ انقلاب کی تمام شرائط پوری نہیں ہوتیں، مذاکرات نہیں ہوں گے اور ہم خدا کی توفیق سے دشمن کی خطرناک سازشوں سے بچ کر رہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجت الاسلام والمسلمین حاج علی اکبری نے تہران میں نمازِ جمعہ کے خطبوں میں کہا کہ مغربی ثقافت نے بے حیائی اور بے راہ روی کو فروغ دے کر خاندان کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا ہے، جس کے اثرات اب خود مغربی معاشروں کو بھی بھگتنا پڑ رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مغرب اپنی وسیع سائنسی، فنی اور ثقافتی صلاحیتوں کے ذریعے اس ثقافت کو دوسرے معاشروں تک پہنچاتا رہا ہے اور اس ثقافتی یلغار نے بہت سے معاشروں کی زندگی کو متاثر کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی استکبار کے نقطۂ نظر سے معاشروں پر تسلط قائم کرنے کا ایک راستہ بے حیائی، بے راہ روی اور خاندان کو کمزور کرنا ہے؛ کیونکہ خاندان سے محروم معاشرہ ایسے افراد پیدا کرتا ہے جو بے تعلق اور بے شناخت ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں اس معاشرے اور اس کے وسائل پر تسلط آسان ہوجاتا ہے۔

امام جمعہ تہران نے کہا کہ ایرانی معاشرے کے خلاف ثقافتی یلغار کا مقصد بھی خاندان کے بنیادی ڈھانچے کو کمزور کرنا ہے، اس لیے اس معاملے میں غفلت نہیں برتنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام کی قومی مزاحمت خاندان کے مضبوط حصار پر استوار ہے اور دشمن ایرانی معاشرے میں موجود باہمی محبت، عاطفی تعلقات، مواسات اور اجتماعی مزاحمت کی صلاحیت کو اپنے مقاصد کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ سمجھتا ہے۔

حاج علی‌اکبری نے کہا کہ ایران کی حالیہ دفاعی صورتِ حال میں ایرانی عوام کی مزاحمت اور میدانِ جنگ میں موجودگی نے ایک خاص شکل اختیار کی ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کا ایرانی انتظام بھی ان دنوں کے اہم موضوعات میں شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ باب المندب پر انصاراللہ یمن کا کنٹرول اور آبنائے ہرمز کے ساتھ اس کا جڑ جانا، ’’میدانوں کی وحدت‘‘ کے تناظر میں ایک بڑا واقعہ ہے اور اس نے خطے اور عالمی توانائی کے اہم راستوں کی صورتِ حال کو متاثر کیا ہے۔

امام جمعہ تہران نے مزید کہا کہ باب المندب دنیا کی توانائی کے اہم حیاتی راستوں میں سے ایک ہے اور وہاں ہونے والی تبدیلیوں نے دیگر پیش رفت کے ساتھ عالمی استکبار پر دباؤ میں اضافہ کیا ہے۔

حجت الاسلام حاج علی‌ اکبری نے کہا کہ ایرانی عوام کی خاندانی وابستگی اور باہمی محبت قومی مزاحمت کی ایک اہم بنیاد ہے اور دشمن اسے اپنے مقاصد کی راہ میں رکاوٹ سمجھتا ہے۔

انہوں نے ایرانی عوام کے درمیان اندرونی تعلقات، محبت اور مواسات کو قومی مزاحمت کی اہم صلاحیت قرار دیا اور کہا کہ یہی عوامل ایرانی عوام کو مشکل حالات میں دشمن کے مقابل متحد رکھتے ہیں۔

امام جمعہ تہران نے کہا کہ انقلابِ اسلامی ایران درحقیقت خاندان کا ایک معجزہ تھا؛ کیونکہ ایران میں انقلاب صرف سیاسی جماعتوں یا مخصوص طبقات کی تحریک نہیں تھا، بلکہ عوام اور خاندانوں کی وسیع شرکت کے ساتھ برپا ہوا۔

انہوں نے دفاع مقدس کے دوران بھی خاندانوں کے کردار کو نمایاں قرار دیا اور کہا کہ ماؤں، بیویوں، نوجوانوں اور خاندانوں کی شرکت کے بغیر ایرانی قوم اس جنگ کا مقابلہ نہیں کرسکتی تھی۔

انہوں نے حالیہ اجتماعات کو امت کی وحدت کا مظہر قرار دیا اور کہا کہ یہ اجتماعات ایرانی قوم کے اتحاد اور امتحان میں سربلندی کی علامت ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ 200 راتوں کے اجتماعات ایرانی قوم کی استقامت کی 200 علامتیں ہیں، جنہوں نے رکاوٹیں توڑیں، امید پیدا کی، مجاہدین کے حوصلے بلند کیے اور دشمنوں کو مایوس کیا۔

امام جمعہ تہران نے کہا کہ ان اجتماعات میں بصیرت، حماسہ اور معنویت تینوں عناصر موجود ہیں اور وقت کے ساتھ ایسے رویے بھی دور ہوئے ہیں جو لوگوں کے لیے باعثِ اذیت تھے، جس سے یہ اجتماعات زیادہ متوازن ہوگئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ قومی یکجہتی کے تحفظ کے لیے خصوصی طور پر دشمن کی جانب سے اختلاف پیدا کرنے کی کوششوں کے مقابل ہوشیار رہنا ضروری ہے۔

انہوں نے اہل سنت کے بعض انقلابی علماء کے قتل کو معاشرے میں اختلاف پیدا کرنے کی سازشوں کا حصہ قرار دیتے ہوئے قومی یکجہتی اور اتحاد کے تحفظ کے لیے خصوصی احتیاط پر زور دیا۔

انہوں نے یمن کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے شمالی یمن کی افواج، مقامی قبائل اور دیگر میدان میں موجود قوتوں کے درمیان پیدا ہونے والے اتحاد کو مزاحمتی محاذ کی وسیع یکجہتی کی علامت قرار دیا۔

News ID 1941468

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha